Ijlas 05March 2010 PDF Print E-mail
Written by admin   
Wednesday, 10 March 2010 08:58
کارروائی جلسہ حلقہ ءاربابِ ذوق اسلام آباد ۵۰ مارچ ۰۱۰۲ئ
حلقہ ءاربابِ ذوق اسلام آباد کا خصوصی جلسہ ۵۰ مارچ ۰۱۰۲ءشام چھ بجے اکادمی ادبیات پاکستان کے رائٹرز ہاو¿س میں پروفیسر ڈاکٹر احسان اکبرکی صدارت میں’ نعتیہ مشاعرہ “ کے طور پر منعقد ہوا۔ ہالینڈ سے آئے ہوئے مہمان شاعر اورادیب حسین شاہد مہمانِ خصوصی تھے۔
مشاعرہ سے قبل بشیر حسین ناظم نے نعت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نعت عربی زبان لا لفظ ہے لیکن یہ قرآنی لفظ نہیں ہے البتہ احادیث میں آتا ہے۔ روایت میں آتا ہے کہ حضرت انس ؓ حضور ﷺ کی نماز کی صفات بیان کیا کرتے تھے۔عربوں میں جو شخص صاحبِ کمال ہوتا ، تمام صفات ایک ذات میں شامل ہوتیں ، تو اُس کے بارے میں کہتے کہ ” ہوَ نعتة“ یعنی وہ شخص تمام صفات کا حامل ہے۔زمانی لحاظ سے نعت ازلی ہے۔اللہ پاک نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ ” اور ہم نے آپ ﷺ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔“ تمام صحائفِ آسمانی میں حضور ﷺ کی نعت پائی جاتی ہے۔حضور نبی پاک ﷺ کے زمانے میں ۰۸۲ نعت گو شعراءموجود تھے۔ جب حضور رحمت ﷺ کی عمر مبارک صرف چھ برس کی تھی تو آپ ﷺ کی والدہ ماجدہ نے آپ ﷺ کی نعت کہی تھی۔ حضرت آمنہؓ نے کہا تھا کہ ” اے میرے پیارے بیٹے اللہ آپ ﷺ کو برکات سے نوازے۔ آپ ﷺ اللہ کی طرف سے تمام جہانوں کی طرف مبعوث ہیں۔ کعب بن زہیر حضور ﷺ کے بہت بڑے دشمن تھے۔ اُنہوں نے آپ ﷺ کی نعت کہی کہ ” اللہ کا رسول ﷺ ایسا نور ہیں ۔ جس سے ساری کائنات روشن ہے۔“ عشرہ مبشرہ سارے نعت گو شاعر تھے۔ حسّان بن ثابت کو اللہ نے یہ شرف بخشا کہ حضور ﷺ نے اُن کی خاطر اپنی چادر بچھائی اور دعا فرمائی کہ اے اللہ اس کی روح القدس پر مدد فرما نا کہ کوئی غلط بات نہ کہے۔
شروع شروع میں نعت کے موضوعات میلاد نامے تھے۔ بعد میں نئے نئے موضوعات آتے گئے ۔ مولانا ظفر علی خاں اور علامہ اقبال نے نعت کو روایت سے نکال کرباقاعدہ موضوعات سے شروع کیا۔آج کے شاعر کو اللہ نے توفیق دی ہے کہ اُس نے نئے نئے موضوعات سے نعت لکھی۔ایسا عمل سنتِ ربانی کو زندہ کرنا ہے۔
بشیر حسین ناظم کی گفتگو ختم ہوئی تو مشاعرے کا آغاز کیا گیا۔ جن شعراءکرام نے سرورِ کائنات ﷺ کے حضور نذرانہ ءعقیدت پیش کیا اُن کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں۔
منظرنقوی، سید مظہر مسعود، افتخار حیدر، عبدالقادر تاباں، اخلاق احمد اعوان، الیاس بابر، علی اکبر ناطق، خالد مصطفیٰ، احمد محمود الزماں، منظر حسین اختر، شیدا چشتی، اختر عثمان،وفا چشتی، مجتبیٰ حیدر شیرازی، جلیل عالی، بشیر حسین ناظم اورڈاکٹر احسان اکبر ( صاحبِ صدارت)۔
اس کے ساتھ ہی جلسے کے اختتام کا اعلان کیا گیا ۔ شرکت کرنے والوں میںپروفیسر ڈاکٹر احسان اکبر،حسین شاہد،بشیر حسین ناظم، منشا یاد، محمد حمید شاہد، کرنل (ر) شرافت علی، جلیل عالی، افتخار حیدر، محمد عبدالقادر تاباں،اختر عثمان،نوید ملک، خلیق الرحمن، الیاس بابر، احمد محمود الزماں، خالد مصطفیٰ، اخلاق احمد
اعوان، مجتبیٰ حیدر شیرازی، وفا چشتی، شیدا چشتی، طیب عزیزناسک، محمد منیر میکھان، منظر حسین اختر، علی اکبر ناطق، ڈاکٹر اعجاز احمد، ڈاکٹر صائم علی، ڈاکٹر مظہر علی، پرتیا سیمیں، تعظیم عمران، منظر نقوی اور سیّد مظہر مسعود شامل تھے۔
رپورٹ :    سید مظہر مسعود، جوائنٹ سیکرٹری حلقہ
ehsan akbar
Hussain Shahid
hazreen
Hussain Shahid and Mansha Yaad
Last Updated on Thursday, 11 March 2010 05:27